کاسرگوڈ،6؍جنوری(ایس او نیوز)ایک مہینے پہلے اپنے 18مہینے کے معصوم بچے کو اپنے ہی ہاتھوں سے کنویں میں پھینک کر ہلاک کرنے اوراسے حادثاتی موت کا رنگ دینے والی ماں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
یہ واقعہ 4دسمبر کا ہے جب پیرلا میں شاردا (25سال)نامی خاتون کے گھر سے کچھ دوری پر واقع غیر مستعمل کنویں سے اس کے ڈیڑھ سالہ بچے کی لاش بر آمد ہوئی تھی۔ بتایا گیا تھاکہ بچہ اچانک غائب ہوگیا تھا اور جب آس پاس کے لوگوں نے تلاشی شروع کی تو بچے کی لاش کنویں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ لڑکے کا والد جو کہ ایک قلی مزدور ہے ، اس وقت گھر پر موجود نہیں تھا ۔ لڑکے کی ماں نے اسے حادثاتی طور پر کنویں میں گرنے کا واقعہ ظاہر کیا اور سب نے اسی پر یقین کرلیا۔
پولیس کے بیان کے مطابق کنور میڈیکل کالج پوسٹ مارٹم کےبعد یہ بات معلوم ہوئی کہ بچے کو جان بوجھ کر کنویں میں پھینکا گیا ہے۔ اس نکتے پر جب پولیس نے تحقیقات شروع کی اور شاردا جو کہ اپنے والدین کے گھر رہنے کے لئے چلی گئی تھی، اس سے پوچھ تاچھ کی پھر وہ یہی کہتی رہ کہ بچہ حادثاتی طورپر کنویں میں گرا تھا۔ مگر پولیس کی سخت تفتیش کے دوران شاردا نے بالآخر قبول کرلیا کہ گھریلو جھگڑے کی وجہ سے خود اسی نے جان بوجھ کربچے کو کنویں میں پھینکا تھا۔
شاردا کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ اس کے برتاؤ سے دماغی طور پر غیر متوازن ہونے کی علامات ظاہر ہورہی ہیں اور اس کا علاج بھی چل رہا ہے۔ملزمہ کو کاسرگوڈ کی عدالت میں پیش کیاگیا جہاں سے اس کو 14دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔